فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عہد اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی علامت بن چکی ہے۔ اس کے والد باسم التمیمی نے بتایا کہ "عہد نے اسرائیلی قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے خاندان میں پرورش پائی ہے۔ اس کے والد کو 9 مرتبہ اور والدہ کو 5 مرتبہ گرفتار کیا گیا”۔
عہد کے والد کا مزید کہنا ہے کہ "میں اپنی بیٹی کے دل میں کسی قسم کا خوف اور تشویش پیدا نہیں کرنا چاہتا۔ یہ ہمارا قومی فریضہ ہے کہ ہم اپنے بچّوں کی تربیت مزاحمت کو بنیاد بنا کر کریں”۔
باسم التمیمی کے مطابق صیہونی حکام نے عہد پر بہت سے الزامات عائد کیے ہیں جن میں اکثر بے بنیاد ہیں۔ عدالت پیر کے بعد اس کے مقدمے کو دیکھے گی۔
عہد کے والد نے باور کرایا ان کی بیٹی انہیں بہت عزیز ہے تاہم اگر اس سے قیمتی کوئی چیز ہوتی تو وہ اسے بھی فلسطین کے لیے پیش کر دیتے۔
باسم کے مطابق ان کی بیٹی شہرت اور میڈیا میں نظر آنے کی خواہش مند نہیں بلکہ وہ اپنی سرزمین ، اپنی آزادی اور عزّت نفس کی متلاشی ہے۔ اس کا کسی سیاسی گروپ سے تعلق نہیں اور نہ وہ کوئی سیاسی ایجنڈا رکھتی ہے۔
عہد کے والد نے مصری وکیل فرید الدیب کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے رضاکارانہ طور پر ان کی بیٹی کے دفاع کی ذمّے داری قبول کی ہے۔
