فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق الجزیرہ ٹی وی کی بندش کا فیصلہ حال ہی میں وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کے اس بیان کے بعد کیا گیا جس میں انہوں نے الزام عائد کیا تھا کہ الجزیرہ ٹی وی اسرائیل کے خلاف تشدد کو ہوا دے رہا ہے۔
اسرائیلی وزیرمواصلات ایوب قرا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ ہم نےالجزیرہ ٹی وی چینل کے دفاتر بند اور اس کے صحافیوں کو دیے گئے اجازت نامے منسوخ کردیے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل میں الجزیرہ ٹی وی چینل کی نشریات کی سہولت فراہم کرنے والی کیبل کمپنیوں کو بھی ہدایت کی ہے کہ وہ پابندی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے الجزیرہ کو نہ دکھائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دخلی سلامتی کے وزیر کو کہا گیا ہے کہ وہ بیت المقدس میں الجزیرہ ٹی وی کے تمام دفاتر سیل کردیں۔
اسرائیلی وزیر مواصلات نے کہا کہ الجزیرہ ٹی وی چینل کی بندش کو قانونی شکل دینے کے لیے جلد ہی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل بھی پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے تمام نشریاتی اداروں اور متعلقہ کمپنیوں سے مطالبہ کیا کہ وہ الجزیرہ کو دکھانے پر پابندی کے فیصلے پرسختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں۔
اسرائیلی وزیر کا کہنا تھا کہ الجزیرہ ٹی وی چینل کی نشریات دکھانے پر پابندی کا فیصلہ صرف اسرائیل نے نہیں کیا بلکہ کئی اعتدال پسند عرب سنی ممالک نے بھی الجزیرہ کی نشریات دکھانا بند کردی ہیں۔ ان کا اشارہ سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات اور مصر کی جانب تھا جنہوں نے دو ماہ سے قطر کا سفارتی اور تجارتی بائیکاٹ کرنے کے ساتھ الجزیرہ ٹی وی چینل کی نشریات بند کردی ہیں۔
