فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی ٹی وی 10 کی جانب سے نشر کردہ سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رائے عامہ کے جائزے میں 751 یہودیوں اور 151 عرب اقلیت کی رائے معلوم کی گئی۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کی عوامی حمایت میں کمی کے اعشاریوں پر مبنی یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیتن یاھو کے خلاف کرپشن کیسز کی تحقیقات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ گذشتہ جمعرات کو اسرائیل کی ایک مجسٹریٹ عدالت نے سرکاری طور پر شبہ ظاہر کیا کہ نیتن یاھو اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے رشوت وصول کرنے اور امانت میں خیانت کے مرتکب ہوئے ہیں تاہم ان کے خلاف ابھی تک فرد جرم عاید نہیں کی گئی ہے۔
وزیرِ اعظم Â نیتن یاہو تین مرتبہ پولیس کی تفتیش کا سامنا کر چکے ہیں۔
چوتھی مرتبہ وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ انھوں نے کبھی کوئی غلط کام نہیں کیا۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ آری ہیرو کا پراسیکیوٹر کے ساتھ معاہدہ بدعنوانی سے متعلق تحقیقات میں اہم پیش رفت ہے۔ اس مقدمے کو اسرائیلی میڈیا میں روزانہ کی بنیادوں پر کوریج دی جاتی ہے۔
وزیر اعظم نیتن یاہو پر الزام ہے کہ ان کے خاندان نے ایک امیر کاروباری شخص سے تحائف وصول کیے۔
دیگر مقدمات میں نیتن یاہو پر الزام ہے کہ انھوں نے اپنے حامی اخبارات میں ان کے حق میں کوریج دینے پر مفت تقسیم ہونے والے حریف اخبار کی اشاعت کو محدود کروایا۔
آری ہیرو نے وعدہ معاف گواہ بن کر اپنے سابق افسر کے حکم پر دھوکہ دہی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کا اعتراف کر لیا۔
نیتن یاہو بدعنوانی کی تحقیقات کو ہمیشہ اپنے سیاسی مخالفین کی جانب سے سازش قرار دیتے رہے ہیں۔
سروے رپورٹ کے مطابق صرف 21 فی صد رائے دہندگان نے نیتن یاھو کو وزارت عظمیٰ کے عہدے پر قائم رہنے کی حمایت کی ہے۔ 13 فی صد نے کوئی جواب نہیں دیا۔
سروے میں لیکوڈ کے سابق رہ نما جدعون ساعر کی حمایت میں 23 فی صد کے مقبابلے میں وزیر تعلیم نفتالی بینٹ کی حمایت میں 11 فی صد رائے دہندگان کی حمایت حاصل ہے۔
