فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے عبرانی اخبار ’معاریو‘ کے زیراہتمام ’سمیتھ‘ انسٹیٹیوٹ کی جانے سے رائےÂ عامہ کا ایک جائزہ لیا گیا جس میں حصہ لینے والے نصف یہودیوں نے نیتن یاھو کو وزارت عظمیٰ کے عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے انÂ سے فوری استعفے کا مطالبہ کیا۔
سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نصف اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو کو کرپٹ سمجھتےاور ان کے استعفے کے حق میں ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف کرپشن الزمات اور رشوت ستانی پرمقدمہ چلانے کی سفارشات کے بعد نیتن یاھو کی عوامی مقبولیت میں تیزی سے کمی آرہی ہے۔
تین روز قبل کیے گئے ایک سروے میں کرپشن الزامات کے باوجود نیتن یاھو اور ان کی جماعت کی عوامی مقبولیت برقرار تھی۔
سروے میں حصہ لینے والے 60 فی صد رائے دہندگان کا کہنا ہے کہ نیتن یاھو کو ریاستی انتظام وانصرام میں سنگین نوعیت کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
سروے میں کہا گیا ہے کہ حکومتی اتحاد موجودہ بحران سے نکل جائے گا اور لیکوڈ پارٹی بھی سیاسی طورپر مستحکم رہے گی تاہم وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اپنی سیاسی ساکھ کھو دیں گے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتخابات کی صورت میں لیکوڈ پارٹی 28، یائر لبید کی زیرقیادت یش عتید 22، صیہونیت کیمپ 15، عرب اتحاد 12، کولانو 11، یسرائیل بیتÂ بیتنو، سات، یہودت ھتورات چھ اور شاس پانچ نسستیں لے سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیل کا موجودہ حکمران اتحاد مجموعی طور پر 65 نشستیں جیت سکتا ہے۔
