فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومت کی طرف سے صہیونی کالونیوں میں تین ہزار مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی مگر فی الوقت ان تعمیرات پرعمل درآمد روکا گیا ہے۔ عبرانی ٹی وی کے کے مطابق یہودیوں کے لیے عارضی طور پر مکانات کی تعمیر روکنے کا مقصد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں نیتن یاھو کو متوقع عالمی تنقید سے بچانا ہے۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد ان گھروں کی تعمیر کام شروع کردیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق حکومت نے ارئیل کالونی میں 700، صوویم میں 260، رحالیم میں 97، میگرون میں 86، نیگوھوت میں 92 میں مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی پر عمل درآمد روکا گیا ہے۔
اس کے علاوہ غرب اردن میں سیکڑوں مکانات کی تعمیر بھی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے بعد تک مؤخر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکومت کی طرف سے تجویز دی گئی تھی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیل پر دباؤ کم سے کم رکھنے کے لیے فلسطین میں صہیونی آباد کاری مؤخر کی جائے گی۔
غرب اردن پر قبضے کے 50 سال پورے ہونے کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا تھا اسرائیل غرب اردن کی کوئی ایک کالونی بھی خالی نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ غرب اردن اسرائیلی ریاست کا حصہ ہے اور اس میں مزید صہیونیوں کو بسانے کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔
