مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) سنہ 2028ء میں صیہونی ریاست کے سیاسی اور سیکیورٹی مستقبل کے حوالے سے کئی طرح کے مایوس کن خیالات پائے جا رہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے ’سائبر’ کالج کے زیراہتمام کرائے گئے رائے عامہ کے ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے کے امکانات کم ہونے کے ساتھ اسرائیل کے سیاسی اور سیکیورٹی مستقبل پر کئی طرح کے سوالات اٹھ رہے ہیں۔عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس وقت اسرا کے تمام طبقات سنہ 2028ء کی آمد پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور آج سے دس سال بعد کے اسرائیلی حالات پر تبصرے بھی کررہے ہیں۔ سروے میں 18 سال سے زائد عمر کے 624 افراد کی رائے لی گئی ہے۔
رپورٹ میں 37.5Â فی صد صیہونیوں کا خیال ہے کہ سن دو ہزار اٹھائیس میں اسرائیل کی سیکیورٹی صورت حال میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ 31 فی صد کا کہنا ہے کہ امن وامان کی صورت حال آج سے بہتر ہوگی۔ جب کہ 20 کی رائے کے مطابق امن وامان کی صورت حال مزید خراب ہوگی۔
سروے میں شامل 60 فی صد کے خیال میں فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان کوئی امن معاہدہ متوقع نہیں جب کہ 15 فی صد کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست اور فلسطینیوں میں سنہ 2028ء میں کوئی نا کوئی معاہدہ ہوسکتا ہے۔
علاقائی امن کے حوالے سے 40 فی صد کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کا کوئی امکان نہیں جب کہ 34 فی صد عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان سمجھوتوں کی توقع رکھتے ہیں۔
اسرائیل کی اقتصادی صورت حال کے بارے میں 48Â فی صد کا کہنا ہے کہ سنہ 2028ء میں صیہونی ریاست کی سیکیورٹی کی صورت حال بہتر ہوگی۔ 24 فی صد اسے ابتر اور 53 فی کا کہنا ہے کہ غربت کی شرح میں اضافہ ہوگا اور 21 فی صد کے مطابق غرب کم ہوگی۔
