اسرائیل کے سرکاری اعدادو شمار کے مطابق سنہ 2009ء کے بعد یہودیوں کی اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) کی طرف نقل مکانی میں اضافے کے بجائے ترقی معکوس ہو رہی ہے، اسرائیل میں آباد ہونے والوں کی نسبت وہاں سے واپس جانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سرکاری ادارہ شماریات کی طرف سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2015ء کے دوران 16 ہزار 700 اسرائیلی ملک چھوڑ گئے جب کہ اسی سال اسرائیل آنے والے یہودیوں کی تعداد 8500 رہی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیرون ملک نقل مکانی کرنے والے یہودیوں نے دیکھا کہ فلسطین سے باہر انہیں ایک سال کے دوران کس حد تک معاشی فوائد حاصل ہوئے اور اسرائیل میں قیام میں انہیں کون کون سی معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
اس سے قبل سنہ 2012ء میں اسرائیل سے واپسی نقل مکانی میں اضافہ ہوا۔ آج اسرائیل سے 1000 یہودیوں میں سے دو یہودی واپس جا رہے ہیں جب اس سے قبل 2012 ء میں واپس جانے والے یہودیوں کا تناسب ایک ہزار میں ایک یہودی تھا۔
اسرائیل سے واپس جانے والے صہیونیوں میں نصف تعداد ان یہودیوں کی ہے جو بیرون ملک پیدا ہوئے۔ ان میں 64 فی صد یورپ ،25 فی صد شمالی امریکا اور آسٹریلیا اور 11 فی صد افریقا اور آسٹریلیا کے ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔
