مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے وزیر مواصلات اور انٹیلی جنس اموریسرائیل کاٹز نے حال ہی میں اقوام متحدہ کے ’ثقافتی ادارے‘ یونیسکو کی اس قرارداد کو اسرائیل کی توہین قرار دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ بیت المقدس شہر میں اسرائیل کا قبضہ غیرقانونی اور باطل ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اپنے ایک بیان میں اسرائیلی وزیر نے کہا کہ ’یونیسکو‘ نے بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ باطل قرار دے لاکھوں یہودیوں کے مذہبی جذبات مجروح کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیت المقدس اسرائیل کا اٹوٹ انگ اور یہودیوں کا مذہبی ، تاریخی، ثقافتی اور تہذیبی مرکز ہے۔ یونیسکو کی قرارداد سے یہودیوں کے بیت المقدس پر ملکیت کے دعوے کو باطل نہیں قرار دیا جاسکتا۔
صہیونی وزیر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ’یونیسکو‘ کی قرارداد کے جواب میں انتقامی طور پر’عظیم تر بیت المقدس‘ کے منصوبے کا اعلان کرے تاکہ یہ ثابت کیا جائے کہ اسرائیل بیت المقدس کے حوالے سے اپنے حقوق ثابت کرنے کی پوری پوری صلاحیت رکھتا ہے۔
صہیونی وزیر کا کہنا تھا کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے بیت المقدس کی حدود کو وسعت دینے کا قانون بھی منظور کر رکھا ہے۔ علاقے میں یہودیوں کے آبادیاتی غلبے ، اطراف کے قصبوں کو القدس میں شامل کرنا، غوش عتصیون، معالیہ ادومیم، جبعات زئیو، بیت علیت اور کئی دوسری کالونیوں کو ملا کر ’گریٹر یروشلم (عظیم تر القدس) کا اعلان کیا جاسکتا ہے۔
یسرائیل کاٹز کا کہنا تھا کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی سلور جوبلی (50 سال مکمل ہونے پر) تقریبات کے دوران ایک نیا قانون منظور کیا جائے جس کے تحت ’عظیم تر القدس کا اعلان کیا جاسکے۔
