برسلز (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) یورپی یونین نے فلسطین میں گرجا گھروں پرصیہونی ریاست کی طرف سے ٹیکسوں کے نفاذ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو عیسائی عبادت گاہوں اور مذہبی امور میں کھلی مداخلت قرار دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یورپی یونین کی خارجہ وسیاسی سیکیورٹی کمیٹی کی سربراہ فیڈریکا موگرینی نے کہا کہا کہ بیت المقدس میں گرجا گھروں کی املاک پر اسرائیلی ریاست کی طرف سے ٹیکس عائد کرنا بین الاقوامی قوانین، مذہبی حقوقÂ اور بین الاقوامی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے۔فیڈریکا موگرینی نے کہا کہ برسلزمیں اردنی وزیرخارجہ ایمن الصفدی کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کہا کہ ۔ انہوں نے کہا کہ القدس تین مقدس مذاہب کا مرکز ہے اور ہرملک کو القدس کے تاریخی تقدس کا احترام کرنا ہے۔
موگرینی کا کہنا تھا کہ انہوں نےالقدس کے گرجا گھروں کو یہودیانے کیÂ سازشوں اور ٹیکسوں کے نفاذ پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل احمد ابو الغیط سے بات چیت کی ہے۔
موگرینی نے امید ظاہرکی کہ فلسطینی اتھارٹی اور اسرائیل مل کر دو طرفہ تنازعات کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیے جانے سے متعلق یورپی یونین کا موقف واضح ہے۔ یورپی یونین فلسطین میں صیہونی بستیوں کی تعمیر کو غیرقانونی خیال کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ القدس کی تمام مقدس املاک بالخصوص القیامہ چرچ اور دیگر گرجا گھروں کی املاک پر ٹیکس عاید کرنا مذہبی امورمیں مداخلت کے مترادف ہے۔
