فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ کے بیت المقدس کے حوالے سے فیصلے پر 8 ممالک کی جانب سے طلب کئے گئے ہنگامی اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ میں پانچ یورپی ممالک نے فیصلے کی مخالفت کرتے ہوئے واضح طور پر کہا کہ ٹرمپ کا یہ قدم اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مطابق نہیں ہے اور غیر مفید ہے۔ اجلاس میں سفیروں کی جانب سے ٹرمپ کے فیصلے کے بارے میں کہا گیا کہ یہ چلا ہوا کارتوس نظر آتا ہے اور اقوام متحدہ کے اجلاس میں کیا توقعات ہیں کچھ نہیں، تاہم ایک سفیر نے کہا کہ یہاں پر امریکہ کی تنہائی نظر آرہی ہے۔ مشرق وسطٰی کے لئے اقوام متحدہ کے کوارڈینیٹر نیکولے ملادینوف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کا فیصلہ اور ٹرمپ کا یہ قدم فلسطینیوں اور دیگر کے غصے کو آگ لگا سکتا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں برطانیہ کے سفیر میتھیو کرافٹ نے کہا کہ برطانیہ مکمل طور پر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیت المقدس (یروشلم) اور سفارت خانے کی منتقلی کے اس قدم سے اختلاف کرتا ہے۔ رے کرافٹ نے کہا کہ یہ فیصلے خطے میں امن عمل کے لئے مفید نہیں ہیں۔ انہوں نے ٹرمپ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور عالمی برادری کی جانب سے دہائیوں سے نظر انداز کئے گئے اسرائیل، فلسطین امن معاہدے کی تفصیلات پر پورا اترے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس امریکی سفیر نکی ہیلے نے ٹرمپ کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ امن عمل کے لئے پرعزم ہے اور اسرائیل و فلسطین دونوں ریاستوں کے درمیان تنازع کے حل کے لئے پرعزم ہے۔ ہیلی کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے حقیقت کا اعتراف کیا ہے کیونکہ اسرائیل کی حکومت، پارلیمنٹ بھی یروشلم میں موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اپنے فیصلے میں زور دیا ہے کہ اسرائیلی اور فسلطینی شہر کی سرحد کے حوالے سے جو فیصلہ کریں گے، اس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہ مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے مقدس شہر ہے۔ امریکی سفیر نے کہا کہ میں سیشن کے دوران اراکین کے بیانات میں تشویش کو سمجھتی ہوں اور تبدیلی مشکل ہے۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اپنے سفارت خانے کو تل ابیب سے وہاں منتقل کرنے کی ہدایت کی تھی اور اس عمل کو امن کی جانب نیا قدم قرار دیا تھا۔ بعدازاں پاکستان، ترکی، ایران، اردن سمیت مسلمان ممالک کے علاوہ دنیا بھر سے ٹرمپ کے فیصلے کی مخالفت میں آواز اٹھائی گئی تھی اور اس فیصلے کو مسترد کر دیا گیا تھا۔
