• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 5 نومبر 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home عالمی خبریں

نہتے زخمی فلسطینی کے قاتل اسرائیلی فوجی کو گھر پر نظر بند رکھنے کا حکم

منگل 18-07-2017
in عالمی خبریں
0
0Pala7895
0
SHARES
5
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کی ایک فوجی عدالت نے ایک زخمی فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر موت کی نیند سلانے والے فوجی کو اس کی اپیل کی سماعت تک گھر پر نظر بند کرنے کا حکم دیا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کی ایک خاتون ترجمان نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ قاتل ایلور آزریا کی تین سال کی لازمی فوجی سروس کی مدت 20 جولائی کو ختم ہورہی ہے اورتل ابیب کی فوجی عدالت نے اس کو اس کے بعد گھر پر نظربند رکھنے کا حکم دیا ہے۔اس وقت اس کو ایک فوجی اڈے پر ’’ کھلی حراست‘‘ میں رکھا جارہا ہے۔

اسرائیلی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق فوجی عدالت کے جج 30 جولائی کو اس کی اپیل کی سماعت کریں گے۔عدالت نے اس سے پہلے اس کی قید کی سزا پر عمل درآمد کو اس کی اپیل پر فیصلے تک موخر کردیا تھا ۔البتہ اس کو زیر حراست رکھنے کا حکم دیا تھا۔

ایلور آزریا کو جنوری میں اسرائیلی فوجی عدالت نے زخمی فلسطینی کے قتل کے واقعے میں قصور وار قرار دیا تھا اور فروری میں اس کو صرف 18 ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس فوجی کے جرم کے مقابلے میں اس کی سزا کو ناکافی قرار دیا تھا اور فلسطینیوں نے بھی اس فیصلے کی مذمت کی تھی اور اس کو انصاف کا منھ چڑانے کی کارروائی قرار دیا تھا۔

واضح رہے اس اسرائیلی فوجی نے مارچ 2016ء میں مغربی کنارے کے شہر الخلیل میں ایک اکیس سالہ فلسطینی نوجوان عبدالفتاح الشریف کو پہلے گولی مار کر زخمی کردیا تھا اور پھر اس کے سر میں گولی مار کر شہید کردیا تھا۔اس کے بارے میں تب اسرائیلی فوج نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ حملہ آور تھا لیکن زخمی ہونے کے بعد اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں رہا تھا۔

واقعے کے وقت اس قاتل فوجی کی عمر انیس سال تھی۔ایک فلسطینی نے اس تمام واقعے کی ویڈیو بنا لی تھی اور ا س کی سوشل میڈیا پر خوب تشہیر کی گئی تھی جس کے بعد اسرائیلی فوج اپنے قاتل فوجی کے خلاف مقدمہ چلانے پر مجبور ہوگئی تھی۔

اس فوجی کے خلاف مقدمے پر اسرائیل کے یہودی سیاست دان اور عوام دو حصوں میں بٹ گئے تھے۔ ان میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والےاس کے خلاف مقدمہ چلانے اور اس کو سزا دینے کی حمایت کرتے رہے تھےجبکہ دائیں بازو کے سیاست دان اور انتہا پسند اس کے خلاف مقدمے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ان میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی پیش پیش تھے۔انھوں نے آزریا کو معافی دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کے ایک انتہا پسند وزیر ایویگڈور لائبرمین نے گذشتہ سال مئی میں وزارت دفاع کا قلم دان سنبھالنے سے قبل آزریا کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا تھا اور اس کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر عدالت میں حاضری بھی دی تھی لیکن بعد میں وہ اپنے اس سابقہ موقف سے منحرف ہوگئے تھے اور انھوں نے فوجی عدالت کے فیصلہ پر کہا تھا کہ ” وہ اس سے متفق تو نہیں لیکن اس کا احترام کیا جانا چاہیے”۔

Tags: americafacebookgamesgazagoogleisraelisraelijerusalemkillerlondonMatrixnebluspalestineparisramallahThirdIntifadatrumpUnitedForPalestinewashingtonwestbankyoutubezionistzombie
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.