فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دفاع الاقصیٰ کا مرکزی جلوس کولالمپور سے نکالا گیا جس میں حکومتی مندوبین، سیاسی جماعتوں، مذہبی تنظیموں، سول سوسائٹی، ذرائع ابلاغ کے کارکنوں اور عام شہریوں کی بڑی تعداد میں موجود تھی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے جن پر مسجد اقصیٰ کی حمایت اور اسرائیلی پابندیوں کے خلاف نعرے درج تھے۔
کلانتان ریاست میں نصرت الاقصیٰ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے نائب وزیراعظم زائد حمیدی نے خطاب میں کہا کہ فلسطینی نمازیوں کے خلاف اسرائیلی فوج کا طاقت کا استعمال اور مسجد اقصیٰ کو نماز کے لیے بند کرنا ننگی جارحیت ہے۔ انہوں نے عالم اسلام پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے دفاع کے لیے اپنی اخلاقی اور مذہبی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لیے موثر کوششیں کریں۔
ادھر ایک بڑی ریلی کولالمپور میں امریکی سفارت خانے کے قریب نکالی گئی جس میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کولالمپور اور ملک کے دوسرے شہروں میں دفاع اقصیٰ ریلیوں میں مجموعی طور پر ملائیشیا کی 40 انجمنوں، سیاسی جماعتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنوں نے شرکت کی۔ مظاہرین نے مظلوم فلسطینی قوم، مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
