مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کو صیہونی ریاست میں ضم کرنے سے متعلق نام نہاد قانون پرغور شروع کیا ہے۔ یہ قانون ایک ایسے وقت میں زیربحث ہے جب دوسری جانب امریکی نائب صدر مائیک پنس مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔ وہ اسرائیل کا بھی دورہ کریں گے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ میں یہ قانون داخلی سلامتی کی وزارت کی جانب سے پیش کیا گیا ہے۔ اس قانون کا مقصد غرب اردن پر اسرائیل کا قانون لاگو کرنا اور غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ کے مطابق یہ مسودہ قانون لیکوڈ پارٹی کے یوآف کیچ اور جیوش ہوم کے بتسئیل سموٹریچ کی جانب سے مشترکہ طورپر تیار کیا گیا ہے۔
اسرائیلی وزیر برائے داخلی سلامتی گیلاد اردان کا کہنا ہے کہ غرب اردن کے تمام علاقوں پر یکساں قانون کے عدم نفاذ سے اس کی فعالیت کمزور ہوگی۔ انہوں نے فلسطین کے تمام علاقوں میں اسرائیلی قانون کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا۔
ادھر اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ میں ایک اور مسودہ قانون میں ترمیم پر غور کیا جا رہا ہے۔ اسرائیل میں داخلے پر پابندی سے متعلق قانون میں ترمیم کرتے ہوئے غیرقانونی طورپر اسرائیل میں داخل ہونے والوں پر کڑی پابندیاں عائد کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسرائیلی داخلی سلاتمی کے حکام کا کہنا ہے کہ گیلاد اردان نے پولیس کی قیادت سے اس نئے قانون پر بات چیت کی ہے۔ اس کی منظوری کے بعد غرب اردن سے شمالی فلسطینی علاقوں میں فلسطینیوں کے داخلے پر پابندی عائد کردی جائے گی۔ تاہم اس قانون کا فی الحال غرب اردن پر نہیں ہوگا۔
