مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکا کی جانب سے سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے بعد صیہونی حکومت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی نمک حلالی کی کوششیں شروع کردی ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انہی نمک حلالی کے اقدامات میں مشرقی بیت المقدس کا ایک ریلوے اسٹیشن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام کیا جانا بھی شامل ہے۔رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیر برائے مواصلات ’یسرائیل کاٹز‘ نے مشرقی بیت المقدس کی صیہونی کالونی کے قریب شہر کی مغربی دیوار سے متصل ایک ریلوے اسٹیشن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام موسوم کرنے کی منظوری دی ہے۔
عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ ریلوے لائن فی الحال زیرتکمیل ہے اور ریلوے لائن کے لیے پرانے بیت المقدس کی مغربی دیوار کے نیچے کوئی تین کلو میٹر کے علاقے میں زمین دوز لائن بچھائی جائے گی۔ یہ ریلوے اسٹیشن سے متصل دوسرے اسٹیشن کو سابق اسرائیلی صدر ’آئزق نافون‘ کے نام موسوم کیا گیا ہے۔
سابق صدر کے نام موسوم اسٹیشن سے ریلوے لائن تقریبا 52 میٹر زمین کے اندر سے گذرے گی۔ یہ ریلوے لائن دو سڑکوں شاہراہ شاہ جارج اور یافا اسٹیشن کو عبور کرے گی جس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اسٹیشن آئے گا۔
خیال رہے کہ اسرائیل القدس اور تل ابیب کے درمیان ایک تیز ترین ریلوے لائن بچھانے کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد القدس اور تل ابیب کے درمیان زمینی سفر سمٹ کر صرف 28 منٹ پرآجائے گا۔ یہ ریلوے لائن اللد ہوائی اڈے، مودیعین صیہونی کالونی اور الامہ اسٹیشن سے گذر کر القدس میں داخل ہوگی۔
اسرائیلی وزیر مواصلات یسرائیل کاٹز کا کہنا ہے کہ القدس کی مغربی دیوار صیہونی قوم کے لیے ایک مقدس مقام ہے اور اسے امریکی صدر کے نام موسوم کرنے سے ان کی اسرائیل کے لیے خدمات بالخصوص القدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے اقدام پر ان سے اظہار تشکر ہے۔
