نیویارک (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوب نیکی ہیلے نے فلسطینی صدر محمود عباس کی پالیسی کوکڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کےلیے امن اقدام مسترد کرکے محمود عباس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مسلسل توہین کر رہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ فلسطینی مرکزی قیادت پر مشتمل مرکزی کونسل کے اجلاس میں یہ اعلان کیا گیا کہ ’اوسلو معاہدہ مرچکا‘۔ اس کے علاوہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کا فیصلہ معطل کرنے کی سفارش کی گئی۔انہوں نے محمود پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صدر عباس ’بدنام سازشی‘ نظریات میں گھرے ہوئے ہیں۔ ان کی زبان وبیان امن مساعی کے مطابق نہیں۔ امن کے لیے لچک دار اور قوت فیصلہ رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے تاکہ امن کا مشکل عمل آگے بڑھایا جاسکے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز ڈاووس میں عالمی اقتصادی فورم کے موقع پراسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے ملاقات کے بعد دھمکی آمیز الفاظ میں کہا تھاکہ اگر فلسطینیوں نے مذاکرات بحال نہ کیے تو فلسطینیوں کی مالی امداد بند کردی جائے گی۔۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی قیادت نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے دورے کے دوران ان سے ملاقات کا بائیکاٹ کرکے نا مناسب رویہ اپنایا۔
دھمکیوں کی سیاست کا کوئی فائدہ نہیں:فلسطین
دوسری جانب فلسطینی اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دھمکی آمیز بیان کو مسترد کردیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک امریکا القدس کے بارے میں کیے گئے اپنے اعلان پر نظرثانی نہیں کرتا اس وقت تک امن عمل کو آگے نہیں بڑھایا جا سکتا۔
فلسطینی ترجمان نے کہا کہ جب تک مذاکرات کے ایجنڈے میں القدس کو شامل نہیں کیا جاتا اسو قت تک امریکا کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی۔ ابو ردینہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کے خلاف دھمکی آمیز، بھوک مسلط کرنے اور جھکانے کی پالیسی ترک نہیں کی جائے گی اس وقت تک بات چیت آگے نہیں بڑھ سکتی اور ہمارے ساتھ دھمکی آمیز پالیسی کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
نبیل ابوردینہ نے کہا کہ القدس ایک مقدس ایشو ہے اور یہ خطے میں جن اور امن کی کنجی ہے۔ اسے دنیا کے مال دولت سےخریدا یا بیچا نہیں جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی پناہ گزینوں کی امداد بند کرنے کا امریکی اعلان ناقابل قبل پالیسی ہے۔
