کارکنوں نے امام خمینی، رہبر معظم آیت اللہ خامنہ ای اور علامہ ساجد علی نقوی کی تصاویر اور فلسطینیوں کے حق میں پلے کارڈز اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ جماعت اسلامی کے قائم مقام امیر لیاقت بلوچ، مسلم لیگ (ن) علما و مشائخ ونگ کے جنرل سیکرٹری مولانا فاروق احمد سعیدی، تنظیم شہریان لاہور کے صدر شفیق رضا قادری، حافظ کاظم رضا نقوی، شہباز حیدر نقوی، ملک شوکت علی اعوان، جعفر علی شاہ، صغیر ورک، عامر علی بھٹی، فخر عباس بٹر اور دیگر نے ریلی سے خطاب کیا۔ اس موقع پر خطاب میں علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ فلسطین امت مسلمہ کا مسئلہ ہے، جس سے کوئی غیرت مند مسلمان اور آزادی پسند انسان الگ تھلگ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ملت تشیع نے دنیا بھر میں مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرکے فرض کفایہ خوب نبھایا ہے اور استعمار دشمنی کی بھاری قیمت بھی ادا کی ہے۔ اسرائیلی مظالم کے مقابلے کیلئے امت مسلمہ کو اتحاد مضبوط بنانا چاہیے۔
ان کا کہنا تھاکہ داعش جیسی امریکہ کی پیدا کردہ ہیں، ریاض کانفرنس میں مسلمانوں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کیلئے منعقد کی گئی۔ جس کا پہلا شکار قطر ہوا ہے۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ اسرائیل کے پنجوں سے بیت المقدس کو آزاد کروانے کیلئے شیعہ سنی اتحاد مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ استعماری طاقتوں سے نجات حاصل کی جا سکے، سعودی حکمران امریکہ کی خوشنودی کی بجائے، فلسطینیوں کے حقوق کیلئے حماس اور حزب اللہ کا ساتھ دیں، اب تاثر کو دور ہونا چاہیے کہ امریکہ اپنے مقاصد کے حصول کیلئے آل سعود کو استعمال کرتا ہے۔ لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ عالم اسلام کے مسائل کا حل اتحاد امت ہے، دشمن مسلمانوں کو شیعہ سنی میں تقسیم کرکے دنیا میں انتشار پیدا کر نا چاہتا ہے۔ مگر قومی قیادت کی معاملہ فہمی نے طاغوتی قوتوں کو اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیا۔
