بیروت – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) بین الاقوامی القدس فاؤنڈیشن مسجد اقصیٰ کی تازہ ترین اور کشیدہ صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالم اسلام سے قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے آپس میں متحد ہونے پر زور دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بین الاقوامی القدس فاؤنڈیشن نے بیروت میں قائم اپنے صدر دفتر سے جاری بیان میں قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے مسلمان اورعرب ممالک پرمشتمل کمیٹی تشکیل دی جائے اور مسجد اقصیٰ کے جولائی 2017ء سے پہلے والی پوزیشن پر بحال کی جائے۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ القدس فاؤنڈیشن القدس محکمہ اوقاف کی اس رپورٹ کا باریکی سے جائزہ لے رہی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ 14 سے 27 جولائی تک اسرائیلی فوج اور پولیس نے مسجد اقصیٰ میں گھس کر بڑے پیمانے پر توڑپھوڑ کے ساتھ قبلہ اوّل کو نقصان پہنچایا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ باب الاسباط کشیدگی کے دوران مسجد اقصیٰ کی بندش کے پیچھے صیہونی ریاست کی ایک گہری سازش کار فرما تھی جس کا مقصد مسجد اقصیٰ پر صیہونی بالادستی کے قیام کی راہ ہموار کرنا تھی۔
عالمی القدس فاؤنڈیشن نے اردنی حکومت سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ قبلہ اوّل کے حوالے سے صیہونی ریاست کے اقدامات کا سختی سے نوٹس لے اور بیت المقدس میں موجود اسلامی اور مسیحی مقدسات اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
القدس فاؤنڈیشن نے اردنی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی نگرانی میں مسلمان اور عرب ممالک کے ماہرین پرمشتمل ایک کمیٹی قائم کرے جو مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کی صیہونی سازشوں کا سد باب کرے۔
قبلہ اوّل کے دفاع کے لیے کام کرنے والے عالمی ادارے نے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بے حرمتی اور مقدس مقام کے تقدس کی پامالی پرصیہونی ریاست کا محاسبہ کرنے پر بھی زور دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی ریاست ہیگ کے سنہ 1999ء، برسلز میں منظور ہونے والے 1953ء کے مذہبی مقامات کے تقدس کے ایکٹ اورÂ جنیوا معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی کررہی ہے۔
