مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت اور صہیونی اشرار کی جانب سے قبلہ اوّل کی بے حرمتی کے دیگر مظاہر کے ساتھ ساتھ حال ہی میں ایک اسرائیلی وزیرہ نے ایسا گاؤن پہننے کا مظاہرہ کیا جس پر مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس شہر کی تصویر پرنٹ کی گئی تھی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے عبرانی اخبار’معاریو‘ نے بتایا ہے کہ خاتون وزیر ثقافت و سپورٹس ایک ثقافتی تقریب میں مسجد اقصیٰ اور پرانے بیت المقدس کی تصویر والا گاؤن پہن کر شرکت کی۔ یہ تقریب بین الاقوامی نوعیت کی تھی جس میں ’ارواح اسماعیل‘ نامی ایک فلم کی بھی نمائش کی گئی۔اسرائیلی وزیرہ سے جب پوچھا گیا کہ اس نے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی تصویر والا لباس کیوں پہن رکھا ہے تو اس کا کہنا تھا کہ وہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کی 50 ویں سالگرہ منا رہی ہیں۔ اس لیے القدس پرقبضے کی سلور جوبلی کی مناسبت سے اس نے ایسا لباس تیار کرایا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائیٹس پر اسرائیلی وزیرہ کے اقدام کو اشتعال انگیز قرار دے کر اسے مسترد کردیا گیا ہے۔ فلسطینی شہریوں کی طرف سے اسرائیلی وزیرہ کے اقدام کو قبلہ اوّل اور تاریخی بیت المقدس کی توہین قرار دیا گیا ہے۔
ادھر بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے 50 سال پورے ہونے کے موقع پر شدت پسند یہودی اور صہیونی تنظیموں نے صہیونی آباد کاروں پر زور دیا ہے کہ وہ یوم القدس کے موقع پر زیادہ سے زیادہ تعداد میں جبل مکبر (مسجد اقصیٰ) میں آئیں اور اجتماعی مذہبی رسومات ادا کریں۔
اسرائیلی پارلیمنٹ میں عرب کمیونٹی کے وزیر ایمن عودہ نے اسرائیلی وزیرہ کے اقدام پر کہا کہ ’میری ریگیو‘ کے اشتعال انگیز اقدام سے لگتا ہے کہ صہیونیوں میں خود اعتمادی کا فقدان ہے اور وہ ایسے اوچھے ہتھکںڈے اختیار کرنے پر اتر آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا تسلیم کرتی ہے کہ مشرقی بیت المقدس آزاد فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہے مگر صہیونی وزراء اشتعال انگیزی سے باز نہیں آتے۔
خیال رہے کہ صہیونی آباد کاروں کی طرف سے مسجد اقصیٰ پر دھاووں کی تازہ اپیل ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو سے ملاقات کے لیے کل اسرائیل پہنچ رہے ہیں۔
