فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکا میں موجود اسرائیلی یہودی لابی نے ‘فیس بک‘ کے خلاف ایک نئی اور اشتعال انگیز مہم شروع کی ہے جس میں ویب سائیٹ کی انتظامیہ پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینی شہریوں کے اسرائیل مخالف صحافت کو بلاک کرنے میں ناکام رہی ہے۔ صہیونیوں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی بڑی تعداد اب بھی صہیونی ریاست کے خلاف پرتشدد حملوں کو اکسانے اور اشتعال پھیلانے کےمواد سے بھرے ہوئے ہیں۔
اسرائیلی اخبار’اسرائیل ٹوڈے‘ کے کالم نگار ‘یائیر الٹرمان‘ کا کہنا ہے کہ فیس بک کے خلاف سرگرم یہودی تنظیموں میں ’یہودی تنظیم برائے نفاذ قانون‘ پیش پیش ہے۔ اس تنظیم نے فیس بک کے خلاف Â ایک ارب ڈالر ہرجانے کا دعویٰ تیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ’فیس بک‘ اسرائیل کے خلاف اشتعمال انگیزی کا مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو رہا ہے جس پر روزانہ کی بنیاد پر فلسطینی صہیونی ریاست کے خلاف اشتعال پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسرائیل نواز گروپ نے ایک فوٹیج بھی نشر کی ہے جس میں یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے خلاف فلسطینیوں کی کئی مسلح کارروائیوں کے لیے فیس بک قصور وار ہے کیونکہ فیس بک کے ذریعے فلسطینی مزاحمت کار ایک دوسرے سے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطینی اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی پر اکساتے ہیں۔
صہیونیوں کی جانب سے ’فیس بک‘ کے خلاف یہ مہم ایک ایسے وقت میں جب فیس بک نے فلسطینی مزاحمتی تنظیموں کے کارکنان، رہنماؤں اور سیکڑوں سماجی کارکنوں کے صفحات اسرائیل مخالف سرگرمیوں کی آڑ میں بلاک کردیے تھے۔ اس مہم کے باوجود صہیونی فیس بک سے مطمئن نہیں بلکہ ویب سائیٹ کی انتظامیہ پر اسرائیل دشمن سرگرمیوں کا پلیٹ فارم Â مہیا کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں۔
