فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار’یسرائیل ھیوم‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ صہیونی فوج نے کئی عشرے قبل سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں ہزاروں کینال فلسطینی اراضی فوجی چھاؤں کے قیام کے لیے غصب کی تھی۔ اب اس اراضی میں صہیونی کالونیاں بسانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی مقاصد کے لیے غصب کی گئی اراضی پر صہیونی کالونیاں تعمیر کرنے کا فیصلہ وزیر دفاع آوی گیڈور لائبرمین کی تجویز پر شروع کیا جا رہا ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع لائبرمین آئندہ جمعرات کو اس نئے فیصلے کی منظوری دیں گے جس کے تحت فوجی چھاؤںیوں کے لیے غصب کی گئی اراضی کو صہیونی آباد کاروں کی کالونیوں کے لیے استعمال کیا جاسکے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فوجی چھاؤنیوں کے لیے قبضے میں لی گئی اراضی پر پہلی فرصت میں ’العاد‘ نامی ایک کالونی تعمیر کی جائے گی۔ اس کالونی کی منظوری کے لیے جمعرات کو پارلیمنٹ میں رائے شماری کی جائے گی۔ اسرائیلی حکومت اور اپوزیشن جماعتیں العاد کالونی کی تعمیر کی حامی ہیں اور فوج نے بھی اس کے لیے اراضی فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیلی کابینہ نے ’العاد‘ کالونی میں 3600 مکانات کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔
