فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے عبرانی نیوزویب پورٹل ’‘وللا‘‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومت فلسطینی بچوں کواحتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے سے روکنے کے لیے ایک نیا مسودہ قانون تیار کیا ہے۔ اس قانون کے تحت احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے بچوں کے والدین پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی۔
قانون کے تحت فلسطینی بچوں کے خلاف قومی تنازعات اور فدائی حملوں میں حصہ لینے کا الزام عائد کیا جائے گا۔
متوقع طور پراس متنازع قانون پربحث آئندہ کل کابینہ کے اجلاس میں Â کی جائے گی۔ قانون کی منظوری کی صورت میں فدائی حملوں اور پرتشدد مظاہروں میں حصہ لینے کی پاداش میں ان کے والدین پر اقتصادی پابندیاں عائد کی جائیں گی اور انہیں حاصل Â مالی مراعات واپس لے لی جائیں گی۔
مذکورہ متنازع قانون حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ کے رکن میکی زوھر نے تیار کیا ہے۔ اس قانون کی منظوری کے بعد فلسطینیوں کو نیشنل انشورینس کے حق سے بھی محروم کردیا جائے گا۔
