فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی زبان میں شائع ہونے والے اخبار ’یسرائل ھیوم‘ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ جولائی میں مسجد اقصٰی پر اسرائیلی پابندیوں کے بعد پیدا ہونے والی کشیدگی کے باوجود اردن، اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کی ایمرجنسی فورسز مشترکہ مشقیں کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ان مشقوں کی تیاری ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے مسجد اقصیٰ پر پابندیاں عائد کیے جانے کے رد عمل میں اسرائیل سے سیکیورٹی تعاون معطل کررکھا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 22 سے 26 اکتوبر تک جاری رہنے والی ایمرجنسی فورسز کی مشقوں میں مشرق وسطیٰ کے جنگلوں میں آتش زدگی پر قابو پانے، دیگر ہنگامی واقعات سے نمٹنے کے جدید طریقوں کے تجربات کیے جائیں گے۔ توقع ہے کہ ان مشقوں میں اٹلی، فرانس، اسپین اور کروشیا بھی حصہ لیں گے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی ایک طرف اسرائیل کے ساتھ تمام سیکیورٹی تعاون ختم کرنے کا اعلان کیے ہوئے ہے اور دوسری طرف مشترکہ مشقوں کے لیے بھی تیار ہے۔ اس سے فلسطینی اتھارٹی اور صدر محمود عباس کے منافقانہ طرز عمل اور دوغلی پالیسی کی عکاسی ہوتی ہے۔
