فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اورن حازن کا تعلق انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکوڈ سے ہے ۔اس نے سوموار کے روز غزہ کی پٹی سے ایک بس میں سوار ہو کر آنے والی فلسطینی خواتین کی انتہائی توہین کی تھی ۔ وہ اسرائیلی جیل میں قید اپنے پیاروں سے ملاقات کے لیے جارہی تھیں۔
اس منھ پھٹ رکن پارلیمان نے ایک فلسطینی ماں سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ ’’ آپ کا بیٹا کتا ہے‘‘ ۔اس نے بس میں سوار مسافروں سے یہ بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ اسرائیل کے خلاف د ہشت گردی کی کارروائیوں کی مذمت کریں ۔
اورن حازن نے یہ تمام ڈراما اسرائیل کی فلسطینیوں کو جیلوں میں قید اپنے پیاروں سے ملاقات کی اجازت دینے کے فیصلے پر تنقید کے لیے رچایا تھا۔اس نے یہ الزام عاید کیا ہے کہ حماس نے تین شہریوں کو مبینہ طور پر غزہ میں اپنے زیر حراست رکھا ہوا ہے اور دو اسرائیلی فوجیوں کی لاشیں بھی اس کے قبضے میں ہیں۔
اس کے جواب میں ایک خاتون نے کہا تھا :’’ تم اپنے بچوں سے ملنے کے لیے حماس سے بات کرو‘‘۔ اس واقعے کی فوٹیج کی فلسطینی اور اسرائیلی سوشل میڈیا پر بھرپور تشہیر کی گئی ہے۔
اسرائیلی رکن پارلیمان کی اس بدتمیزی کے جواب میں حماس کے عسکری ونگ کے ترجمان ابو عبیدہ نے ایک سخت بیان جاری کیا ہے۔ انھوں نے اسرائیلی حکام سے مخاطب ہوکر کہا ہے کہ ’’ ایک بچگانہ فعل کے لیے اس احمق کو بھیجنے کے بجائے اس معاملے کو حوصلے سے حل کرنے کی کوشش کریں اور خواتین کو ڈرانے دھمکانے سے گریز کریں‘‘۔
یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ حازن نے اس طرح کا تنازعہ کھڑا کیا ہے۔2015ء میں ایک ٹیلی ویژن رپورٹ میں اس رکن پر منشیات میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد اس کو پارلیمان کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔
اس سال مئی میں مسٹر حازن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ سیلفی بنانے پر کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔اگست میں وزیراعظم نیتن یاہو نے اس کو اردن کے ایک رکن پارلیمان سے ملاقات سے روک دیا تھا۔انھیں خدشہ تھا کہ ان دونوں کے درمیان ملاقات کی صورت میں ہاتھا پائی ہوسکتی تھی۔
