اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں رپورٹ میں بتایا ہے کہ لیکوڈ پارٹی کے رہنماؤں کا گمان ہے کہ وزیراعظم نیتن یاھو کا اگلے چند ماہ تک ٹرائل شروع نہیں ہوگا۔ البتہ مارچ 2019ء تک ان کے خلاف کسی عدالتی مقدمہ کی کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔ مارچ دو ہزار انیس میں اسرائیل میں ویسے ہی نئے پارلیمانی انتخابات ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق وزراء اور ارکان کنیسٹ کے درمیان ان دنوں وزیراعظم کے بدعنوانی کے پولیس کے ہاں زیر تفتیش کیسز زیربحث ہیں۔ ارکان کنیسٹ اور کابینہ کے وزراء کا کہنا ہے کہ اگر وزیراعظم کے خلاف رشوت وصول کرنے کے مقدمہ میں فرد جرم عائد کی جاتی ہے تو وہ (نیتن یاھو) استعفیٰ دینے پرمجبور ہوں گے۔ تاہم اگر ان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی جاتی تو وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔
خیال رہے کہ 67 سالہ نیتن یاھو سنہ 1996ء کے بعد سے حکومت کے اعلیٰ عہدوں پر فائز چلے آرہے ہیں اور وہ چوتھی بار اسرائیل کے وزیراعظم ہیں۔ اگر وہ رواں سال کے آخر تک اس عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو انہیں اسرائیل میں سب سے زیادہ مدت وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنھبالنے والے سیاست دان کا اعزاز حاصل ہوجائے گا۔
