نیویارک (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ فلسطین کے محصور علاقے غزہ کی پٹی کے دو ملین لوگوں کی مشکلات اور مصائب کی اصل وجہ غزہ کی سرحدی گذرگاہوں کی بندش ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرس کے ترجمان اسٹیفن ڈوگریک نے نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ غزہ کی پٹی کے عوام کی مشکلات کی اہم وجوہات میں غزہ کی گذرگاہوں کی بندش ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے’اونروا‘ کو دی جانے والی امداد میں کمی اور غزہ میں صحت کے مسائل وہاں کی آبادی کے لیے مشکلات کا موجب ہے۔مسٹر ڈوگریک کا کہنا تھا کہ غزہ کا علاقہ ’اونروا‘ کی طرف سے ملنے والی امداد کی کمی کا شکار ہے۔ فلسطینیوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کی ناکامی اور دیگر داخلی بحران مل کر غزہ کی پٹی کے عوام کو مشکلات سے دوچار کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بدھ کو کویت کی درخواست پر غزہ کی بحرانی صورت حالÂ پر ہنگامی مشاوری اجلاس بلایایا جائے گا۔
خیال رہے کہ حماس اور تحریک فتح نے 12 اکتوبر 2017ء کو مصری حکومت کی زیرنگرانی ایک مصالحتی معاہدہ کیا تھا جس کا مقصد غزہ کی پٹی کے عوام کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے اقدامات کرنا تھے تاہم فلسطینی اتھارٹی اور فتح کی لاپرواہی کے باعث مصالحتی معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد نہیں کیا جاسکا ہے۔
