مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی طرف سے صیہونی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے باوجود اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں پر نسل پرستانہ کارراوئیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق امریکی اخبار ’یو ایس اے ٹوڈے‘ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں فلسطینیوں کے خلاف صیہونی ریاست کی نسل پرستی پر کڑی تنقید کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستانہ کارروائیوں سے روکنے میں بری طرح ناکام رہی ہیں۔اسرائیل نہ صرف فلسطینیوں کے خلاف نسل پرستی کا مظاہرہ کررہا ہے بلکہ صیہونی ریاست میں آباد افریقی نسل کے یہودیوں کو بھی سفید فام یہودیوں کی نسل پرستی کا سامنا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں اریٹیریا، جنوبی سوڈان اور ایتھوپیا کے 40 ہزارÂ پناہ گزین اسرائیل میں موجود ہیں۔ ان میں سے بڑی تعداد کو اسرائیل نے جزیرہ نما النقب کی جیل میں ٹھونس رکھا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صیہونی ریاست کی نسل پرستانہ پالیسیوں کے خلاف عالمی سطح پر بحث کی جاتی ہے۔ ذرائع ابلاغ بھی معاملے کو اجاگر کرتے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ کے بار بار معاملے پر توجہ دلانے کے باوجود اسرائیل افریقی باشندوں کے خلاف نسل پرستانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اسرائیلی فوج نے افریقی پناہ گزینوں کو رکھنے کے لیے کیمپ قائم کر رکھے ہیں اور ان کیمپوں میں ہی پناہ گزینوں کی عورتیں بچوں کو جنم دیتی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں موجود افریقی پناہ گزین بدترین صدمے اور تکالیف سے دوچار ہیں۔ صیہونی ریاست کی پناہ گزینوں کے حوالے سے انتقامی اور نسل پرستی پر مبنی پالیسی نے صہیونی جمہوریت پسندی کے دعوے کو بری طرح بے نقاب کردیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سنہ 2013ء میں مصر کے جزیرہ نما سیناء میں اسرائیل کی سرحد پر دیوار تعمیر کیے جانے کے بعد بیرون ملک سے پناہ گزینوں کی آمد میں کمی آئی ہے مگر اس دیوار کی تعمیر نے صیہونی ریاست کے منفی کردار پر کئی سوالات بھی پیدا کردیے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں پناہ گزین ہونے والے افریقی مسلمانوں اور عیسائیوں کو صیہونی ریاست کی بدترین نسل پرستی کا سامنا ہے۔ صیہونی ریاست کی ان پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسی صریحا نسل پرستی پر مبنی ہے۔
