فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی اخبار ’’اسرائیل ھیوم‘‘ اور چینل سیون نامی سیٹلائیٹ ٹی وی کے مطابق مجوزہ قانون میں شامل دفعات کے ذریعے دہشت گردی کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ اس مجوزہ ترمیم کے ذریعے ان فلسطینی اسیران کو سزائے موت دی جا سکے گی جو ایسی عسکری کارروائیوں میں ملوث پائے گئے ہوں جن میں اسرائیلی شہری ہلاک ہوئے ہوں۔
اللیکوڈ پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسرائیلی پارلیمنٹ ناوا ہوکر نے بتایا کہ مجوزہ ترمیم کے ذریعے ہم فوجداری قانون میں ایسی کڑی سزائیں متعارف کرانا چاہتے ہیں کہ جن سے ’’دہشت گرد‘‘ حملوں اور اسرائیل مخالف سرگرمیوں کا تدارک اور اسرائیلی شہریوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔
اسرائیلی فوجداری قانون میں ترمیم کے حوالے سے حالیہ چند دنوں سے بحث مباحث جاری تھا کیونکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کے وزیر لائیبرمین نے ایک بیان میں یقین دلایا تھا کہ وہ اسرائیلیوں کو قتل کرنے والے فلسطینی اسیران کو موت کے گھاٹ اتارنے کی سزا کی منظوری دلوائیں گے۔ اسرائیلی قیادت کا یہ بیان صہیونی بستی حلیمش پر فلسطینیوں کے حالیہ حملے کے بعد سامنے آیا تھا جس میں تین یہودی آبادکار ہلاک ہو گئے تھے۔
