فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان جانتھن کونریکوس نے صحافیوں کو بتایا کہ ” ہم طیارے کے خلاف حملے یا شام کی جانب سے ہونے والے کسی بھی حملے کا ذمے دار شامی حکومت کو ٹھہراتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی طیارہ لبنانی فضاؤں میں اپنی "روٹین کے سروے مشن” پر تھا۔
ادھر بیت المقدس میں "العربیہ” کے نمائندے نے واضح کیا کہ آج نشانہ بنائی گئی بیٹریز وہ ہی ہیں جن کے ذریعے رواں سال مارچ میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب دو میزائل داغے گئے تھے اور ان میزائلوں کو غور اردن کے علاقے میں فضا میں ناکارہ بنا دیا گیا تھا۔ نمائندے کے مطابق میزائل بیٹریز کو دمشق سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر نشانہ بنایا گیا۔
اسی سلسلے میں اسرائیلی عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ واقعہ ختم ہو چکا ہے اور کسی قسم کی عسکری جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ذرائع کے مطابق اسرائیلی لڑاکا طیاروں کا نشانہ بنایا جانا یہ سُرخ لکیر ہے۔
عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے ماسکو کے ساتھ عسکری رابطہ کاری کے سلسلے میں روس کو آج دمشق کے نزدیک کی جانے والی کارروائی کی تفصیلات اور اس کی وجوہات سے آگاہ کر دیا ہے۔
