مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی میں جنگی قیدی بنائے گئے اسرائیلی فوجی شاؤل ارون کی والدہ نے کہا ہے کہ اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ساتھ معاہدے کے بغیر میرے بیٹے کی رہائی ممکن نہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ارون شاؤل کی والدہ کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں غزہ کے قریب مغوی فوجی کے اہل خانہ کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب پر غزہ سے ہاون راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا۔شاؤل ارون سنہ 2014ء سے غزہ کی پٹی میں حماس کے عسکری ونگ عزالدین ’القسام‘ بریگیڈ کی تحویل میں ہیں۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ حماس نے غزہ میں اس کے تین زندہ فوجیوں اور دو میتوں کو قبضے میں لے رکھا ہے۔
ایف ایم ریڈیو’106‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ارون شاؤل کی والدہ’زھاوا شاوول‘Â نے کہا کہ جب تک حماسÂ کے ساتھ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے کوئی معاہدہ طے نہیں پاتا تب تک غزہ میں یرغمال اسرائیلیوں کو دیکھنا ناممکن ہے اور یہ حقیقت سب جانتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے فلسطینی مزاحمتی گروپوں اور حماس کے ساتھ بات چیت جاری ہے تاہم انہوں نے اس بات چیت کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی۔
مغوی فوجی کی ماں نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے قائم کردہ نئے عہدیدار یاروان بلوم کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ بلوم ذاتی طور پر مضبوط، متوازن اور ذہین انسان ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یرغمالیوں کو رہائی دلانے کے لیے بات چیت کو کیسے آگے بڑھانا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں یرغمالی فوجی کی والدہ نے کہا کہ غزہ کے خلاف جنگ اس وقت تک ختم نہیں ہوتی جب تک ان کے بیٹے سمیت دیگر تمام یرغمالیوں کو رہائی نہیں دلائی جاتی۔
خیال رہے کہ سنہ 2014ء کی غزہ جنگ کے دوران حماس کےعسکری ونگ القسام بریگیڈ کے کارکنان نے دراندازی کرنے والے متعدد اسرائیلی فوجیوں کو ہلاک اور کچھ کو یرغمال بنا لیا تھا۔ ان میں شاؤل ارون بھی شامل ہے۔
