لندن (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) امریکا کے ایک باخبر سفارتی ذریعے نے خبر دی ہے کہ امریکی حکومت مشرق وسطیٰ میں ’صدی کی ڈیل‘ کے اپنے منصوبے کو آگے بڑھانے سے قبل اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور فلسطینی اتھارٹی کو نہتا کرنا چاہتی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق لندن سے شائع ہونے والے اخبار’الحیات‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ امریکا مشرق وسطیٰ کے لیے اپنے مجوزہ امن منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف کوششیں کررہا ہے مگر یہ سب کچھ فلسطینی صدر محمود عباس کو اقتدا سے الگ کرنے کے بعد ہوگا۔اخبار نے ایک فلسطینی عہدیدار کے حوالے سے بھی بتایا ہے کہ امریکیوں کو بہ خوبی اندازہ ہے کہ صدر محمود عباس صدی کی ڈیل کو قبول نہیں کریں گے۔ امریکا غزہ کی پٹی اور غرب اردن میں حماس اور فلسطینی اتھارٹی کی متبادل قیادت کو لانے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ تاہم یہ سب کچھ یک بارگی نہیں بلکہ مرحلہ وار ہوگا۔
ایک مغربی سفارتی ذریعے نے اخبار ’الحیات‘ کو بتایا کہ امریکی انتظامیہ ڈونرز ممالک کے ساتھ مل کر غزہ کی پٹی میں سرمایہ کاری اور مالیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کررہا ہے۔ اس منصوبے میں غزہ میں حماس کے اقتدار کو ختم کرنا اور غرب اردن میں موجودہ فلسطینی اتھارٹی کی متبادل قیادت تیار کرنا ہے۔
سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر اور ان کے داماد جارڈ کوشنر نے ڈونرز کمیٹی کے ارکان سے کہا تھا کہ وہ غزہ کی پٹی کے لیے مالی مدد فراہم کرنے کے لیے اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈالیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈونرز ممالک اور امریکی حکام کے درمیان غزہ کی مالیاتی مدد کے حوالے سے اگلے ملاقات چند ہفتوں کے اندر ممکن ہے۔ اس ملاقات میں امریکی مشیر غزہ کی پٹی میں پانی صاف کرنے کے پلانٹ کی تنصیب اور شمسی توانائی کے منصوبوں کے لیے 60 ملین ڈالر کی رقم کا مطالبہ کریں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت مجوزہ امن منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کے تحت غزہ کی پٹی کو سب سے پہلے شامل کریں گے۔ منصوبے کے تحت غزہ میں حماس کا اقتدار ختم کرکے متبادل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی کوشش کی جائے گی۔ دوسرے الفاظ میں غزہ صدی کی ڈیل منصوبے کی پہلی اینٹ ہوگی۔
