مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے کثیرالاشاعت عبرانی اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ملک کے سب سے بڑے مذہبی گروپ ’حریدیم‘ نے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی جانب سے لازمی فوجی سروس کے قانون پرعمل درآمد کو مسترد کردیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ’حریدیم‘ یہودی گروپ کی طرف سے وزیرقانون ایلیت شاکید کے وضع کردہ لازمی فوجی سروس کے قانون کو مسترد کردیا ہے۔خیال رہے کہ حال ہی میں اسرائیلی حکومت نے ’لازمی فوجی سروس‘ کے عنوان سے ایک نیا قانون منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت ملک کے یہودی طبقے سے تعلق رکھنے والے تمام نوجوانوں کے لیے لازمی فوجی سروس کو لازمی قرار دیا گیا تھا۔ تاہم حریدیم یہودی طبقے کی طرف سے لازمی فوجی سروس کا قانون مسترد کردیا گیا تھا۔
عبرانی اخبار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سرکردہ یہودی ربیوں کی طرف سے کنیسٹ کے ارکان کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ اس وقت تک سنہ 2019ء کے بجٹ کی منظوری نہ دیں جب تک کہ ’بھرتی قانون‘ پر پارلیمنٹ کی جنرل کمیٹی تینوں رائے شماریوں میں اس کی منظوری نہ دے دے۔
خیال رہے کہ حالیہ عرصے کے دوران مذہبی یہودیوں کی جانب سے لازمی فوجی سروس کے حوالے سے پیش کردہ قانون کے خلاف احتجاج کرتے رہےہیں۔ مذہبی یہودیوں کے احتجاج اور مخالفت کی وجہ سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو اس وقت سنگین مشکلات سے دوچار ہے۔ اس نے دیگر اتحادی جماعتوں کو کہا ہے کہ وہ حکومت کو موجودہ بحران سے نکالنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں یا قبل از وقت انتخابات کے لیے تیار رہیں۔
