فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تل ابیب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ ہمیں نئی امریکی انتظامیہ سے ہم آہنگی کے بغیر یہودی آباد کاری کی کسی اسکیم پر کام نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی اقدام سے گریز کرنا ہوگا جس سے امریکی انتظامیہ کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔ تاہم امریکی انتظامیہ کو اعتماد میں لے کر یہودی آبادکاری کی جاسکتی ہے۔
لائبرمین کا کہنا تھا کہ ہمیں زمین پر یہودی آباد کاری کے وسیع پیمانے پر منصوبے شروع کرنے کے بجائے Â سیاسی میدان میں امریکا اور دیگر اتحادی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ اگر امریکا اور دوسرے اتحادی ممالک کے ساتھ ہم آہنگی پیدا ہوجائے تو Â یہودی آباد کاری پر کوئی تنازع پیدا نہیں ہوگا۔
ادھر دوسری جانب اسرائیلی رکن کنیسٹ اور سابق وزیرخارجہ ’زیپی لیونی‘ نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادیوں کے باہر آباد کاری جاری رکھنے کے خطرناک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی طرف سے یہودی کالونیوں کو آئینی حیثیت دینے کی کوششوں پر بھی تنقید کی اور کہا اس طرح کے اقدامات سے اسرائیل کو عالمی عدالت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
