مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے انتہا پسند وزیر دفاع ایویگڈور لائبرمین نے پارلیمان کے عرب ارکان کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دے دیا ہے۔انھوں نے ایک روز قبل ہی اسرائیل میں قدیمی آباد عربوں کے بائیکاٹ کا مطالبہ کیا تھا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق انھوں نے پارلیمان میں عرب ارکان کی جانب سے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے خلاف پیش کردہ عدم اعتماد کی تحریک پر بحث کے دوران میں یہ انتہا پسندانہ گفتگو کی ہے۔عرب خاتون رکن حنین زعبی نے سوموار کو تحریک عدم اعتماد پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ وزیراعظم نیتن یاہو کے خلاف ہیگ میں قائم عالمی فوجداری عدالت میں مقدمہ چلایا جانا چاہیے کیونکہ وہ ایک جنگی مجرم ہیں‘‘۔
انھوں نے کہا کہ ’’قبضہ ہمیشہ غاصبانہ ، متشدد انہ ، غیر قانونی اور جنگی جرائم کی بنیاد رہے گا‘‘۔وہ فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کے پچاس سالہ قبضے کا حوالہ دے رہی تھیں۔
لائبرمین نے اس کے ردعمل میں کہا کہ ’’عرب اتحاد کی مشترکہ لسٹ میں شامل تمام لوگ جنگی مجرم ہیں‘‘۔اس اتحاد کے پارلیمان میں بارہ عرب اور ایک یہودی رکن ہے۔
انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’’ آپ نے کمزوریوں اور ایک جمہوری ریاست کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہمیں اندر سے تباہ کرنے کی کوشش کی۔ہم اس سلسلے میں کسی الجھاؤ کا شکار نہیں ہیں۔ آپ یہاں ایک غلطی کی بنا پر موجود ہیں اور وقت آئے گا جب آپ یہاں موجود نہیں ہوں گے‘‘۔
واضح رہے کہ عرب اسرائیلی ان فلسطینیوں کی آل اولاد ہیں جو 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے وقت اپنی آبائی سرزمین پر ہی آباد رہے تھے اور انھوں نے قابض صیہونیوں کی چیرہ دستیوں کے باوجود اپنے آبائی علاقوں کو چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔آج ان کی تعداد اسرائیل کی کل آبادی میں 17.5 فی صد ہے۔
لائبرمین ایک عرصے سے اسرائیل میں آباد عرب فلسطینیوں کو دوسرے علاقوں میں منتقل کرنے کی وکالت کرتے چلے آرہے ہیں اور انھوں نے یہ بھی تجویز پیش کی تھی کہ اسرائیل کے عرب شہریوں سے صیہونی ریاست سے وفاداری کا حلف لیا جائے۔
انتہا پسند وزیر دفاع نے ایک روز قبل ہی کہا تھا کہ ’’ اسرائیل میں جو لوگ حزب اللہ ، حماس اور پی ایل او (تنظیمِ آزادی ِفلسطین ) کے پرچم اٹھائے مظاہرے کررہے ہیں، وہ اسرائیلی ریاست کا حصہ نہیں ہیں ۔اس لیے میں اسرائیلی شہریوں پر زوردو ں گا کہ وہ وادی آرا میں آباد لوگوں کا معاشی مقاطعہ کردیں ۔ان کی دکانوں سے خریداری نہ کریں، ان کے ریستورانوں میں کھانا نہ کھائیں اور ان سے خدمات بھی حاصل نہ کریں‘‘۔
ان کے بہ قول اس بائیکاٹ کا صرف ایک ہی مطلب ہے کہ ان عربوں کو یہ باور کرادیا جائے کہ ان کی یہاں کوئی ضرورت نہیں ہے۔
