واشنگٹن – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) وائٹ ہاوس نے باالاخر عالمی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی دارالحکومت کے حوالے سے فیصلہ وقت آنے پر کیا جائے گا۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ریاست یوٹاہ سے ہوائی جہاز میں صدر ٹرمپ کے ساتھ سفر کرنے والے وائیٹ ہاؤس کے ترجمان ھوگن گیڈلی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ نے القدس سے متعلق موقع اعلان چند روز کے لیے ملتوی کردیا ہے۔گیڈلی کا کہنا ہے کہ واشنگٹن واپسی کے دوران سفر میں صدر نے ان سے گفتگو کی اور بتایا کہ القدس کے بارے میں اعلان چند روز کے لیے مؤخر کیا جا رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس حوالے سے بالکل کلیئر ہیں اور اس معاملے پر فیصلہ وقت آنے پر کریں گے۔
دوسری جانب اسلامی تعاون تنظیم نے خبر دار کیا ہےکہ مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا امریکی اقدام عرب اور مسلم ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔
او آئی سی کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدرٹرمپ کے مقبوضہ بیت المقدس کو ممکنہ طور پر اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کی صورت میں اسلامی تعاون تنظیم مسلم ممالک کا اجلاس طلب کرے گی۔
بیان میں مزید کہا گیا ہےکہ ایسے کسی بھی فیصلے کوعرب اور مسلم اقوام کے خلاف کھلا حملہ تصور کیا جائےگا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل وائٹ ہاوس نے کہا تھا کہ امریکی صدر ٹرمپ رواں ہفتے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے کا اعلان کر سکتے ہیں۔
سنہ 2002ء میں امریکی کانگریس نے بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومتÂ قرار دینے کے لیے قانون سازی کی تھی تاہم اس وقت کے صدر جارج ڈبلیو بش نے اس پر عمل درآمد سے گریز کیا تھا۔ انہوں نے چھ ماہ کے لیے یہ معاملہ موخر کردیا جس کے بعدÂ ہر چھ ماہ کے بعد یہ فیصلہ ملتوی ہوتا رہا ہے۔
