مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی کنیسٹ (پارلیمنٹ) نے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی اور مغربی حصوں کو یکجا کرنے کے ایک نئے متنازع قانون کی منظوری دی ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی کنیسٹ میں القدس کو یکجا کرنے کے بل پر دوسری اور تیسری رائے شماری کی گئی۔ اس قانون میں کہا گیا ہے کہ مستقبل میں بیت المقدس کے حوالے سے کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک نہیں کیا جاسکے گا جب تک پارلیمنٹ کے کم سے کم 80Â ارکان اس کی حمایت نہیں کریں گے۔مسودہ قانون پر تین گھنٹے تک بحث جاری رہی۔ اس بل میں پہلے سے شامل کی گئی ایک شق ختم کردی گئی۔ اس شق میں القدس بلدیہ کے زیراہتمام فلسطینی اکثریتی کالونیوں کو الگ کرنے کی سفارش کی گئی تھی۔
رائے شماری کے دوران بل کی حمایت میں 64 ارکان اور مخالفت میں 51 نے ووٹ ڈالا جبکہ صرف ایک رکن کنیسٹ رائے شماری میں حصہ نہیں لیا۔
خیال رہے کہ القدس کے دونوں حصوں کو باہم یکجا کرنے کا متنازع قانون ایک ایسے وقت میں منظور کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے القدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرتے ہوئے اسرائیل میں اپنا سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔
