مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی چینل 7 نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومت آئندہ ہفتے فرانس کے دارالحکومت پیرس میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے’یونیسکو‘ کے متوقع اجلاس کے انعقاد کو روکنے کی کوشش کررہا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ کے سائنسی وثقافتی ادارے ’یونیسکو‘ کا ایک اجلاس آئندہ ہفتے پیرس میں ہوگا۔ اسرائیل اس اجلاس کو روکنے کی اس لیے کوشش کررہا ہے کیونکہ اجلاس کے ایجنڈے میں مقبوضہ بیت المقدس کا معاملہ بھی شامل کیا گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق یونیسکو کے پیرس میں ہونے والے متوقع اجلاس میں اس بات پر بحث کی جائے گی کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ پر صہیونیوں کا کوئی دینی حق نہیں۔
شیڈول کے مطابق یہ اجلاس آئندہ بدھ کو شروع ہوگا جو تین دن تک جاری ہے گا۔
خیال رہے کہ یونیسکو نے 18 اکتوبر 2016ء کو ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں دیوار براق کو خالص اسلامی مذہبی مقام قرار دیتے ہوئے اس جگہÂ پر صہیونیوں کے کسی بھی مذہبی حق کی صاف الفاظ میں نفی کی گئی تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور دیوار براق سے تعلق کے حوالے سے صہیونیوں کے مزعومہ دعوؤں کی کوئی نئی تجویز سامنے نہ آئی تو گذشتہ برسÂ منظور کی گئی قرارداد پر دوبارہ رائے شماری کی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق یونیسکو میں اسرائیل کے مندوب الکرمل شامہ ھاکوھن نے ایک سفارتی مہم شروع کر رکھی ہے جس کا مقصد یونیسکو کے ادارے میں طاقت کا توازن تبدیل کرنا ہے۔
اسرائیل کو یہ خدشہ ہے کہ فلسطینی گذشتہ برس یونیسکو میں منظور ہونے والی قرارداد پر دوبارہ رائے شماری کراسکتے ہیں۔
