فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نتین یاھو نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ’فیس بک‘ پر پوسٹ ایک بیان میں لکھا کہ الاقصیٰ کو غیرمعمولی کوریج دینے پروہ کسی بھی وقت الجزیرہ ٹی وی کا القدس میں دفتر بند کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔
قبل ازیں عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت نے ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ 12 جون کو نیتن یاھو نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران بھجی قطر کے الجزیرہ ٹیلی ویژن چینل کا دفتر بند کرنے پر مشاورت کی تھی تاہم بعد ازاں اس فیصلے کو موخر کردیا گیا تھا۔
نیتن یاھو کا کہنا ہے کہ الجزیرہ ٹی وی نے مسجد اقصیٰ میں کشیدگی پر اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرانے اور حرم قدسی میں کشیدگی کے معاملے کو اسرائیل کے خلاف پروپیگنڈے کے طور پرپیش کرنے کی کوشش کی ہے جس پر اسے بند کیا جاسکتا ہے۔
عبرانی اخبار کے مطابق گذشتہÂ ماہ کابینہ کے اجلاس میں بھی الجزیرہ ٹی وی کے دفتر کی ممکنہ بندش پربات چیت کی گئی تھی۔ اس ضمن میں وزارت خارجہ کے شعبہ اطلاعات، داخلی سلامتی کے خفیہ ادارے’شاباک‘ اور سیکیورٹی حکام پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی Â تھی جسے مقبوضہ بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں قائم الجزیرہ کے دفاتر کو بند کرنے یا نہ کرنے کا اختیارسونپا گیا تھا۔
