فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ترک وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں امریکی وزارت خزانہ اور وزارت خارجہ کی طرف سے اسماعیل ھنیہ کا نام بلیک لسٹ میں شامل کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
ترک دفتر خارجہ کے ترجمان ھامی اقصوی نے کہا کہ امریکی حکومت نے حقائق سے چشم پوشی اختیار کرتے ہوئے حماس رہنما کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ امریکا کو اس اقدام کے مضمرات اور مشرق وسطیٰ میں دیر پا امن کے قیام کے حوالے سے ہونے والی مساعی پر پڑنے والے اثرات کو سامنے رکھنا ہوگا۔
انہوں نے توقع ظاہر کی کہ امریکی حکومت کے اقدام سے غزہ کی پٹی میں انسانی بہبود کی سرگرمیاں اور ترکی کے زیراہتمام ترقیاتی منصوبے متاثر نہیں ہوں گے۔
خیال رہے کہ بدھ کو امریکی وزارت خارجہ اور وزارت خزانہ نے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ کو دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی حکومت نے فلسطینی تنظیم ’تحریک الصابرین‘ مصر کے حسم اور ’انقلاب بریگیڈ‘ کو بھی دہشت گرد گروپ قرار دیا تھا۔
امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹیلرسن کا کہنا تھا غزہ کی پٹی میں سرگرم گروپ حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ مشرق وسطیٰ مین امن کے لیے خطرہ ہیں اور وہ اسرائیل کے ساتھ ہونے والے امن عمل کو تباہ کررہے ہیں۔
