فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فسلطینی عوام مسلسل دسویں روز مسجد اقصی کے اندر نماز ادا کرنے میں ناکام رہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد کے باہر الکٹرونک اسکینروں کی تنصیب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فلسطینیوں نے مسجد کے اطراف میں نماز ادا کی۔
پیر کی شب ہزاروں فلسطینیوں نے مسجد اقصی کے دروازوں پر نمازِ عشاء ادا کی۔ اس موقع پر صہیونی افواج نے نماز کے اختتام کے فوری بعد بابِ اسواط پر نمازیوں کے خلاف بنا کسی وجہ کے صوتی بموں کا استعمال کیا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حکام حرمِ قدسی کی دیوار کے اندر نگرانی کے کیمرے نصب کر رہے ہیں۔
دوسری جانب مشرق وسطی کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نکولائی ملادینوف نے جمعے سے قبل مسجد اقصی کے حوالے سے حل تلاش کیے جانے کی ضرورت پر زور دیا ہے تا کہ صورت حال مزید خراب نہ ہو۔ یہ موقف عالمی سلامتی کونسل کی بند کمرے میں بات چیت کے بعد سامنے آیا۔
مشرق وسطی کے لیے امریکی نمائندے جیسن گرینبلیٹ بھی مسجد اقصی کے بحران سے متعلق بات چیت کے لیے تل ابیب سے اردن کے دارالحکومت عمان پہنچے ہیں۔
اسی سیاق میں مغربی کنارے اور غزہ پٹی کے مختلف علاقوں میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج نے رام اللہ اور شمالی مغربی کنارے کے درمیان شاہراہ کو بند کر دیا اور مظاہرہ کرنے والے فلسطینی نوجوانوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں کئی مظاہرین زخمی بھی ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے البیرہ شہر پر بھی دھاوا بولا جب کہ بیرزیت میں چار فلسطینی زخمی ہوئے۔
مسجد اقصی میں اسرائیل کی جانب سے پامالیوں کے ارتکاب کو زیر بحث لانے کے واسطے اسلامی تعاون تنظیم کا ایک ہنگامی اجلاس آج سعودی عرب کے شہر جدہ میں منعقد ہو رہا ہے۔
