مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت ایک نئے مسودہ قانون کی تیاری کررہی ہے جس کی منظوری کے بعد اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے کارکنوں کو جیلوں میں ڈالنے اور انہیں اذیتیں دینے کی راہ ہموار ہوجائے گی۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے کثیرالاشاعت اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکمران جماعت ‘لیکوڈ‘ اور ’کولانو‘ نے متفقہ طور پر پارلیمنٹ میں ایک آئینی بل پیش کرنے کی تیاری شروع کی ہے۔ اس مجوز قانون کے تحت اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والے کارکنوں کوگرفتار کرکے انہیں جیلوں میں ڈالنے اوران کے خلاف غیرقانونی حراستی ہتھکنڈے استعمال کیے جاسکیں گے۔عبرانی اخبار کے مطابق نئے قانون کا مسودہ تیاری کے مراحل میں ہے۔ اس میں سفارش کی گئی ہے کہ اسرائیلی ریاست کا کسی بھی سطح پر بائیکاٹ کرنے والی تنظیموں کے کارکنوں یا اسرائیلی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے والوں کو کم سے کم سات سال قید کی سزا دی جائے۔
نئے مسودہ قانون کے تحت بائیکاٹ کے ذریعے اسرائیلی ریاست کے مفادات کو نقصان پہنچانے کا باعث بننے والے کارکنوں کے خلاف عالمی سطح پر بھی چارہ جوئی کی جاسکے گی۔
یہ نیا مسودہ قانون بحث کے لیے جلد پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ اس پر حکمران جماعت لیکوڈ کے رکن پارلیمنٹ عنات بارکو اور حکمران اتحاد میں شامل کئی دوسرے ارکان پارلیمان کے دستخط ثبت ہیں۔
