مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیل میں امریکا کے تعاون سے جاری وسیع پیمانے پر ہونے والی فوجی مشقیں اختتام پذیر ہوگئی ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دو ہفتے قبل شروع ہونے والی ان فوجی مشقوں میں صیہونی فوج کی سینٹرل کمانڈ، نادرن کمانڈ اور سدرن کمانڈ کی یونٹوں کے اہلکاروں کے ساتھ فضائیہ، نیوی اور بری فوج کے بڑی تعداد میں فوجیوں نے حصہ لیا۔عبرانی نیوز ویب پورٹل ’وللا‘ کے مطابق امریکا کے تعاون سے ہونے والی فوجی مشقوں میں فلسطینیوں کے راکٹ حملوں کے نتیجے میں 100 صیہونیوں کی ہلاکتÂ کے تناظر میں تجربات کیے گئے۔
اسرائیلی فوج کے ایک سینیر عہدیدار نے بتایا کہ مشقوں میں فوج کے تمام شعبوں کے اہلکاروں کو شامل کیا گیا تھا۔
یہ مشقیں امریکا اور اسرائیل کی افواج پر مشتمل یہ دو ہفتے قبل مقبوضہ فلسطین میں ’جونیپر کوبرا2018ء‘ کے عنوان سے شروع کی گئی تھیں۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تازہ ٹریننگ کا مقصد ریزرو فوج میں بھرتی کے لیے رابطوں میں تیزی لانا اورغزہ کی سرحد کے قریب موجود فوجی تنصیبات کے دفاع اور فوج کی نقل وحرکت کوÂ زیادہ فعال بنانا ہے۔
جنگی مشقوں میں پیادہ فورس، بری فوج اور جنوبی ریجن کی فوج کی طرف سے لاجسٹک سہولت فراہم کی گئی ہے۔
عبرانی میڈیا میں بتایا گیا ہے کہ امریکی فوج اسرائیل میں میزائل ڈیفنس فورس کی تنصیبات کو وسعت دینے کے لیے اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون کررہی ہے۔ امریکی اور اسرائیلی افواج صیہونی ریاست کے داخلی محاذ کو لاحق خطرات کے پیش نظر آنے والے دنوں میں مشترکہ جنگی مشقوں کے لیے تیاری کرنا ہے۔ ان مشقوں کا مقصد صیہونی ریاست کو وسعت دینا ہے۔
تازہ تربیتی پروگرام امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ جنگی مشقوں کے پروگرام کے شیڈول کا حصہ ہے۔ یہ مشقیں شمالی اور جنوبی فلسطین کے متوازی علاقوں میں امریکی اور اسرائیلی فوج وسیع پیمانے پر ہوئیں۔
ان مشقوں میں 2500 امریکی اور 2000 اسرائیلی فوجیون نے حصہ لیا۔ مشقوں کے دوران اسرائیل کے’ایرو‘ فضائی دفاعی نظام، آئرن ڈوم، ڈیوڈ سلائیشوٹ‘ اورÂ پیٹریاٹ میزائلوں کے تجربات کیے گئے۔
