مقبوضہ بیت المقدس – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اردن کی حکومت نے 23 جولائی کو عمان میں اسرائیلی سفارت خانے کے ایک اہلکار کے ہاتھوں دو اردنی شہریوں کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بحرران کے حل کے لیے اسرائیل کے ساتھ چار شرائط پیش کی ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی میں شائع ہونے والے موقر اخبار’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اسرائیلی سیکیورٹی گارڈÂ زیوف مویال کی فائرنگ میں دو اردنی شہریوں کے قتل کے بعد پیدا ہونے والے بحران کے حل کے لیے عمان نے چار شرائط پیش کی ہیں۔رپورٹ کے مطابق اردن نے اسرائیل کے ساتھÂ جاری سفارتی بحران کے حل کے لیے چار شرائط پیش کی ہیں۔ وہ چار شرائط مقتولین کے ورثاء کو تاوان ادار کرنا، عمان سے تحریری معافی مانگنا، اسرائیلی جیلوں میں قید اردنی شہریوں کی رہائی اور کشیدگی کے وقت اسرائیلی سفیرہ کو دوبارہ عمان میں تعینات نہ کرنا جیسی شرائط شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی بحران کے حل کے لیے اعلیٰ سطح پر رابطے ہوئے ہیں، اسرائیل نے بحران کے حل کے لیے خفیہ ادارے’موساد‘ کے چیف یوسی کوھین کو ذمہ داری سونپی ہے۔ تاہم اسرائیل کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اردنی شہریوں کے قتل میں ملوث سیکیورٹی اہلکار کے خلاف عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جائے گا۔
رپورٹ میںÂ اردن نے اسرائیلی سفیرہ ’عینات شلائن‘ کو دوبارہ عمان میں بجھوانے کی تجویز مسترد کردیا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل نے بھی مقتولین کو خون بہا ادا کرنے کی تجویز قبول کی ہے تاہم سرکاری سطح پر اس کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی۔
عبرانی اخبار کے مطابق اردن کے ساتھ پائے جانے والے سفارتی بحران کے باعث صیہونی ریاست کو اقتصادی اور معاشی نقصانات کا سامنا ہے۔
