فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق شیخ ماہر حمود کاکہنا تھا کہ آج مسلم و عرب دنیا میں چند افراد اسلامی مزاحمت کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ درا صل امریکا اور اسرائیل کی خدمت کرنے میں مصروف ہیں لیکن اسلامی مزاحمت ایک خالص مزاحمتی تحریک ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت بھی دہشت گردی کے ساتھ موازنہ کرنے کی جرات نہیں کر سکتی۔شیخ ماہر حمود نے خطے میں جاری تکفیری سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر اسلامی مزاحمت کا وجود نہ ہوتا تو آج شام، عراق اور پورے خطے میں اسلام کا نام لبادہ اوڑھ کر آنے والے دہشت گرد گروہ خطے کو تہس نہس کر چکے ہوتے ، انہوں نے شام اور عراق میں اسلامی مزاحمت کو حاصل ہونے والی کامیابیوں کو اسرائیل کے خلاف ہونے والی کامیابیوں کا تسلسل قرار دیا۔
انہوں نے فلسطین پر غاصبانہ صیہونی تسلط کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایک سو سال بیت چکے ہیں اور فلسطین کے عوام بالفور اعلامیہ کے بعد سے تاحال صیہونیوں خے ظلم و تشد د کا مسلسل نشانہ بن رہے ہیں لیکن ہماری بد قسمتی رہی ہے کہ عالم اسلام و عرب دنیا نے فلسطین کے معاملے میں جو کردار ادا کرنا چاہئیے تھا نہیں کیا۔انہوں نے فلسطین کی تقسیم کے بالفور وعدے کو جھوٹا اور فسق وعدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بالفور اعلامیہ کے آج سو سال مکمل ہونے پر بھی دنیا کے با ضمیر لوگ فلسطینی اور اسلامی مزاحمت کے کیمپ کی طرف کھڑے ہیں جو وعدہ الہٰی کی دلیل ہے فلسطین فلسطینیوں کا ہے۔
