فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے یہ احکامات مسجد اقصیٰ کے باہر نصب کردہ اسکینر ہٹائے جانے اور ان کی جگہ اسمارٹ کیمرے لگانے کے فیصلے کے موقع پر جاری کیے گئے ہیں۔ اسمارٹ کیمرے نصب کرنے کا عمل اگلے چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاھو اور داخلی سلامتی کے وزیر گیلاد اردان کے درمیان ہونے والی بات چیت میں وزیراعظم نے ہدایت کہ پولیس کو مسجد اقصیٰ میں آنے والے نمازیوں کی تلاشی کے لیے فری ہینڈ دیا جائے۔
وزیراعظم نیتن یاھو اور داخلی سلامتی کے وزیر کے درمیان نمازیوں کی تلاشی کے لیے دستی میٹل ڈیٹکٹر فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے پولیس کو یہ احکامات ایک ایسے وقت میں جاری کیے گئے ہیں جب عبرانی ٹی وی 2 نے ایک سروے میں بتایا ہے کہ اسرائیلیوں کی اکثریت الاقصیٰ کے دروازوں کے سامنے سے الیکٹرانک گیٹس کے ہٹائے جانے کو نیتن یاھو کی شکست سے تعبیر کررہے ہیں۔
خیال رہے کہ گذشتہ روز اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے باہر نصب کردہ اسکینر اور الیکٹرانک گیٹس ہٹا دیے تھے جس کے بعد فلسطینی شہریوں نے قبلہ اوّل میں نماز کی ادائیگی شروع کردی ہے۔ اسرائیلی حکومت نے اسکینروں کی جگہ اب مسجد اقصیٰ کے باہر اسمارت کیمرے لگانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جسے اگلے چھ ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے پر 100 ملین شیکل کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
