فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حکومتی مشیر قانون کے ہاں تیار کردہ ’مشکوک دستاویز‘ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نیتن یاھو کی اہلیہ نے ماکولات اور مشروبات پر غیرمعمولی رقم خرچ کی تھی یا بھاری رقم وصول کی تھی۔
مشیر قانون افیحائی منڈلبلیٹ کے مطابق سارہ یاھو کے خلاف اس کیس میں فرد جرم عاید کی جاسکتی ہے تاہم کیس سے قبل ان کا موقف بھی سنا جائے گا۔
اس کیس کے مطابق سارہ نیتن یاھو نے محکمہ خزانہ کو تین لاکھ 59 ہزار شیکل کا بل بنا کر بھیجا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس رقم میں مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔ سارہ نیتن یاھو کو ایک کھانے پر زیادہ سے زیادہ 200 شیکل تک رقم خرچ کرنے کی اجازت ہے۔ اس سے زیادہ کے اخراجات کی وہ مجاز نہیں ہیں مگر انہوں نے جو بل محکمہ مال کو بھجوائے ہیں وہ فی کھانا 500 شیکل کی رقم سے بھی زیادہ ہیں۔ اس طرح نیتن یاھو کی اہلیہ کھانے پینے میں پرلے درجے کی عیاشی کی مرتکب ہوئی ہیں۔ ان پر سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے اور دھوکہ دہی کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
