مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت حساس نوعیت کی اہم معلومات کو پوشیدہ رکھنے کے لیے حد درجہ کوششیں کرتی ہے جب کہ صیہونی سائنسدان ان رازوں کو آن لائن افشاء کرتے رہے ہیں۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مؤقر عبرانی اخبار’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ حال ہی میں حکومت کو یہ معلوم ہوا ہے کہ قومی سائنسدان حساس نوعیت کے معلومات کو افشاء کرنے میں ملوث ہیں۔ اس انکشاف نے حکومت کو شدید صدمے سے دوچار کیا ہے۔ آن لائن جاری کی گئی اہم معلومات کو سیکیورٹی ادارے حذف کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔عبرانی اخبار کے مطابق سیکیورٹی ادارے ان معلومات کو آن لائن نیٹ ورک سے ہٹانے کے لیے کام کررہے ہیں تاکہ ان کے اثرات کو زائل کیا جاسکے تاہم انہیں ان معلومات کو ہٹانے میں اس لیے مشکل کا سامنا ہے کیونکہ یہ اہم راز ان گنت ویب سائٹس اور بلاگ پر پوسٹ کیے گئے ہیں۔
اخبار نے ان معلومات کی مزید تفصیل جاری نہیں کی صرف ان کے نشر کیے جانے کی خبر پر اکتفاء کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ معلومات وزارت دفاع کے سابق ڈائریکٹر جنرل کے ایک بیان کے بعد سامنے آئی ہیں۔ اخباری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سائنسدان ممنوعہ اور حساس نوعیت کی معلومات کو انٹرنیٹ پر پوسٹ کرنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ان معلومات کے افشاء کے لے مجاز اداروں سے اجازت حاصل نہیں کی اور ادارے کے سربراہ ’نیر بن موشے‘ نے بھی ان معلومات کے افشاء کا نوٹس نہیں لیا۔
ہارٹز کے مطابق جب پتا چلا کہ حساس راز انٹرنیٹ پر جاری کیے جا رہے ہیں تو سیکیورٹی اداروں سے اس بابت پوچھ گچھ شروع ہوئی۔ مگرادارے اس کا الزام ایک دوسرے پر عائد کرتے ہیں۔
اسرائیل کے سرکاری ادارے کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وزارت دفاع کے عہدیدار خفیہ معلومات کے افشاء کے معاملے میں منقسم ہیں۔
سرکاری فاؤنڈیشن کے بعض عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خفیہ معلومات کو لیک کرنے سے قبل اس کی اجازت لی گئی تھی۔ تاہم اس حوالے سے اگرپالیسی تبدیل کی گئی ہے تو اُنہیں اس کے بارے میں آگاہ کرنا چاہیے تھا۔
