فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فوج کئی ماہ سے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے سیکٹر A میں فلسطینی حکام کو مزید اختیارات سونپے جانے کے لیے کوشاں تھی مگربعض وجوہات کی بناء پر ایسا نہیں ہو سکا تھا۔ حال ہی میں فوج نے فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کو اضافی اختیارات سونپے ہیں، جس کے بعد اس سیکٹرمیں اسرائیلی فوج کی نقل وحرکت کافی محدود ہو گئی تھی۔
خیال رہے کہ سیکٹر A غرب اردن کے کل رقبے کا 18 فی صد ہے اور یہ سیکٹر سنہ 1994ء میں طے پائے اوسلو معاہدے کے تحت فلسطینی اتھارٹی کے انتظامی کنٹرول میں دیا گیا تھا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سیکٹر ’’اے ‘‘ میں اسرائیلی فوج کی نقل وحرکت اور ان کی آپریشنل کارروائیوں میں 60 فی صد کمی آئی ہے جب کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کو 40 فی صد اضافی اختیارات سونپے گئے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی ادارے فلسطینی شہریوں کے اسرائیلی فوجیوں پر حملوں کی روک تھام اور فدائی کارروائیوں کو ناکام بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ اسرائیلی ٹی وی کا کہنا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی پولیس کی جانب سے شہریوں کی گرفتاریوں کے واقعات کے بعد فدائی کارروائیوں میں غیرمعمولی کمی آئی ہے۔
