فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس کے ترجمان فوزی برھوم نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل نے غزہ کے عوام پر 11 سال سے معاشی اور اقتصادی پابندیاں عائد کررکھی ہیں۔ ان پابندیوں کے خلاف یورپی ملکوں میں مقیم فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیموں نے جاندار مہم چلائی جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو ایک کھلی جیل میں تبدیل کر رکھا ہے جہاں دو ملین انسان قیدیوں کی طرح زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔ ان دو ملین شہریوں کو بنیادی انسانی حقوق کی بھی میسر نہیں ہیں۔
فوزی برھوم نے دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی اسرائیلی پابندیوں کے خلاف آواز بلند کریں۔ ان Â کا کہنا تھا کہ غزہ کے لاکھوں شہریوں کا اجتماعی محاصرہ انسانیت کی تذلیل اور توہین ہے اور اسے ہرصورت میں ختم ہونا چاہیے۔ دنیا کی زندہ ضمیر قوتوں ، تنظیموں اور اداروں کو فلسطینیوں کا ساتھ دینا چاہیے۔
خیال رہے کہ یورپی ملکوں میں سرگرم فلسطینی تنظیموں کی طرف سے غزہ کی پٹی کے علاقے پر اسرائیل کی مسلط کی گئی پابندیوں کے خاتمے کے لیے مہم شروع کی گئی ہے۔ حال ہی میں یورپی ملکوں میں فلسطینی کمیونٹی نے محصورین غزہ کے ساتھ اظہار یکجہتی کی ریلیاں نکالیں جن میں انہوں نے فلسطینی اتھارٹی کے کردار پر بھی کڑی تنقید کی ہے۔ یورپی ملکوں میں موجود فلسطینیوں نے غزہ کے مریضوں پر عائد کردہ سفری پابندیاں فوری طور پر اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔
