دوحہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن عزت الرشق نے کہا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس فلسطین کا اٹوٹ انگ ہے اور اسے صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حماس رہنما نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر عالم اسلام اور فلسطینی قوم کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔ اگر انہوں نے بیت المقدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دیا تو اس کے سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔عزت الرشق نے کہا کہ اگر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ القدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں تو یہ تاریخ کا سب سے غلط فیصلہ ہوگا اور اس کے نتیجے میں پورے خطے میں آگ بھڑک اٹھے گی۔
انہوں نے کہا کہ القدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینا ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کے مترادف ہے۔
عزت الرشق کا کہنا ہے کہ القدس کو امریکا کی جانب سے صیہونی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کے اقدام سے نام نہاد امن مذاکرات کے علم برداروں کے منہ پر زور دار طمانچہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ کی طرف سے القدس کے بارے میں متنازع بحث چھیڑنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا فلسطینیوں کے منصفانہ اور عادلانہ حقوق کے بجائے قابض صیہونی ریاست کی طرف داری کر رہا ہے۔ امریکی صدر کا ایجنڈے خطے میں کشیدگی پیدا کرنا اور صیہونی ریاست کے جرائم کوÂ ہوا دینا ہے۔
خیال رہے کہ جمعہ کو امریکی حکام نے انکشاف کیا تھا کہ صدر ڈنلڈ ٹرمپ القدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور تل ابیب سے امریکی سفارت خانہ القدس منتقل کرنے کا حکم دینے کی تیاری کررہے ہیں۔
