غزہ – (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام محمد مہدی عاکف کی مصری جیل میں وفات پر اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے گہرے دکھ اور رنج وغم کا اظہار کیا ہے۔ حماس نے مرحوم کی قضیہ فلسطین اور عالم اسلام کے حوالے سے گراں قدر خدمات کو شاندار خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال کومسلم امہ کے لیے سانحہ قرار دیا ہے۔
فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اخوان المسلمون کے سابق مرشد عام محمد مہدی عاکف کل جمعہ کو مصر کی ایک جیل کے زیرانتظام اسپتال میں 89 سال کی عمر میں انتقال کرگئے تھے۔حماس نے مہدی عاکف کے انتقال پرگہرے دکھ اور رنج وغم کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ سابق مرشد عام نے قضیہ فلسطین سمیت عالم اسلام کے سلگتے مسائل کے حل کے لیے ہر فورم پر ناقابل فراموش خدمات انجام دیں۔ وہ فلسطینیوں کے بنیادی حقوق کے لیے آخری بار گرفتاری تک مقدمہ لڑتے رہے ہیں۔ فلسطینی قوم آج اپنے حقوق کے لیے مقدمہ لڑنے والے ایک وکیل سے محروم ہوگئی ہے۔
حماس نے اخوان المسلمون، مصری قوم اور مرحوم کے عزیز واقارب کے ساتھ ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔
اخوان المسلمون کے وکیل ایڈووکیٹ عبدالمنعم عبدالمقصود نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مہدی عاکف کو آج ہفتے کے شام قاہرہ میں ان کے آبائی قبرستان میں سپرد خاک کیا جائے گا۔
مہدی عاکف سنہ 2013ء کے بعد مصری جیل میں پابند سلاسل تھے۔ ان پر منتخب صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے منعقد کرنے کے الزام میں سمیت کئی دیگر الزامات میں مقدمہ چلایا گیا تھا۔
اخوان المسلمون Â کے ریکارد کے مطابق 89 سالہ مہدی عاکف نے اپنی زندگی کے کئی سال پہلے بھی جیلوں میں قید کاٹی۔ مصر کی ایک عدالت نے انہیں 25 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم اپیل عدالت نے ان کی سزا کالعدم قرار دے کر دوبارہ مقدمہ چلانے کا حکم دیا تھا۔
محمد مہدی عاکف سنہ 2004ء میں محمد مامون الھضیبیی کی وفات کے بعد جماعت کے مرشد عام مقرر کیے گئے تھے۔ سنہ 2010ء میں ڈاکٹر محمد بدیع کے مرشد عام مقرر کیے جانے کے بعد وہ اس عہدے سے سبکدوش ہوگئے تھے۔ محمد بدیع بھی مصری جیل میں قید ہیں جہاں انہیں سزائے موت اور عمر قید جیسی سنگین سزاؤں کا سامنا ہے۔
